کابل، 18/اگست (آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ڈپلومیٹک ایریا کے قریب یکے بعد دیگرے متعدد راکٹس آ کر گرے ہیں جس کے بعد غیر ملکی سفارت کاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان طارق آریان نے حساس علاقے میں راکٹوں کے گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو گاڑیوں سے ڈپلومیٹک ایریا کی طرف متعدد راکٹس فائر ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 'گرین زون' کے قریب کم از کم چار راکٹ گرے ہیں جس کے بعد ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا اور علاقے میں خطرے کی گھنٹیاں بجتی رہیں۔
یاد رہے کہ کابل کے 'گرین زون' میں کئی ملکوں کے سفارت خانوں کے علاوہ مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد نیٹو کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔
ویسٹرن سیکیورٹی آفیشل کے سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ 'گرین زون' میں موجود تمام ملکوں کے سفارتی حکام کو اس وقت تک کے لیے ڈپلومیٹک ڈسٹرکٹ کے محفوظ کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے جب تک کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں ہو جاتا۔
افغان سیکیورٹی حکام کے مطابق فی الحال جائے واقعہ پر ٹیمیں موجود ہیں اور متاثرہ مقام اور راکٹ حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کا پتا لگا رہی ہیں۔
راکٹ حملوں میں فوری طور پر ہلاکتوں کا پتا نہیں لگ سکا ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
کابل میں راکٹ حملے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب افغانستان میں جشنِ آزادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ بدھ کو افغانستان میں یومِ آزادی کے سلسلے میں تقریبات ہونا ہیں۔
دوسری جانب افغانستان میں جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ بھی فوجیوں کی واپسی کی تیاریاں کر رہا ہے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔